سلام یا حسینؑ 2014 |
---|
شاعر |
کلام |
سلام یا حسینؑ 2015 |
---|
شاعر ؛ جناب سید کامی شاہ صاحب |
جسے چراغ ستارے امام کہتے ہیں اسے حسین علیہ السّلام کہتے ہیں نکل کے کعبہ سے جانا ہے جانبِ مقتل سفر یہ ہوتا ہے اس کو خرام کہتے ہیں بلند نیزے پہ کرنا ثنائے کُن فیّکُن! سخن یہ ہوتا ہے، اس کو کلام کہتے ہیں اُسے پتہ تھے سبھی راز صبر کیشی کے اُسے خبر تھی کہ کس کو دوام کہتے ہیں فضا میں اُڑتے پرندے زمیں پہ اتریں تو درِ حسینؑ پہ کامی سلام کہتے ہیں |
سلام یا حسینؑ 2015 |
---|
سید کامی شاہ کا نذرانہ |
سرمئی صبح، سبھی دن کے اُجالے اُن کے موجِ صحرا میں ابد خیز وہ گھوڑے اُن کے صبر و نعمت کی بلندی سے تھی پہچان اُن کی جبر کے دام پہ خنداں تھے ارادے اُن کے وہ تو اک شام تھی رستے میں کہیں آ نکلی سلسلے اور کسی دن سے جُڑے تھے اُن کے کوئی سمجھا تھا کہ وہ باندھ چکا ہے پانی کتنے دریا تھے جو قدموں میں بچھے تھے اُن کے رنج سامانی فراہم ہے یہاں جن کے لیے عہد و پیمان کہیں اور ہوئے تھے اُن کے پیاس مفتوح ہوئی دشت میں دیکھا ہم نے اپنے ہی خون سے ہوئے سرخ لبادے اُن کے ایک اک کر کے سبھی قتل ہوئے گھر کے چراغ ایک اک کر کے جلائے گئے خیمے اُن کے سرخ رُو ہیں وہ خواتین، بزرگ اور جواں اور سردارِ شہیداں ہوئے بچّے اُن کے!!! |
سلام یا حسینؑ 2016 |
---|
شاعر |
کلام |
سلام یا حسینؑ 2017 |
---|
شاعر |
کلام |
سلام یا حسینؑ 2018 |
---|
شاعر |
کلام |
سلام یا حسینؑ 2019 |
---|
شاعر: جناب سید کامی شاہ صاحب |
دائم نوا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال مولا مرا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال ہاتھوں میں جو عَلم ہے نشانِ احد ہے یہ ہونٹوں پہ یا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال باطل پرست شب کے تصور پہ آج بھی چھایا ہُوا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال ماتھے پہ اپنے خاکِ شفا سے لکھا علیؑ دل پر لکھا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال حق کے سفر میں حُر کو شہادت ہوئی نصیب مجھ کو ملا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال رازوں کا راز دار، چراغوں کا راز دار رازِ خدا حسینؑ ہے، از ربِ ذوالجلال |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں